کولار27 جنوری (ایس او نیوز) ہندو تنظیموں کے احتجاج اور اُن کی ناراضگی کے بعد محکمہ تعلیم کے حکام نے کرناٹک کے کولار ضلع میں ایک سرکاری اسکول کی ہیڈ مسٹریس کو مسلم طلباء کو کلاس روم میں نماز پڑھنے کی اجازت دینے پر معطل کر دیا ہے۔
گزشتہ اتوار کو، ہندو تنظیموں کے ارکان مُلباگل سومیشورا پالیا بالے چنگپا گورنمنٹ کنڑا ماڈل ہائر پرائمری اسکول میں گھس گئے تھے اوراسکول کی میر معلمہ کے خلاف اسکول کے ایک کلاس روم میں جمعہ کی نماز پڑھنے کی اجازت دینے پرسخت احتجاج کیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ جمعہ کے روز اسکول کے بعض بچوں کو اسکول کے ایک کلاس روم میں پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی اور کلاس روم میں نماز پڑھنے کی وڈیو وائرل ہوگئی تھی۔
ہندو تنظیموں کے احتجاج پر ریاست کی بی جے پی حکومت فوراً حرکت میں آگئی اور کولار ضلعی انتظامیہ کو واقعے کی انکوائری کا حکم دیا، جس کے بعد بلاک ایجوکیشن آفیسر (بی ای او) گریجشوری دیوی نے اسکول کی ہیڈ مسٹریس اوما دیوی کو معطل کردیا۔
ہیڈ مسٹریس کو معطل کرنے پر آئیٹا کا اعتراض، کیا انصاف کا مطالبہ: ضلع کولار کے ملباگل تعلقہ کے اسکول میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی کو لیکر اسکول کی میر معلمہ شریمتی اوما دیوی کو معطل کرنے پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئیٹا کے ریاستی صدررضا مانوی نے میر معلمہ کو واپس بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسی ایشن (آئیٹا) کے صدر نے اس واقعے کے بعد ضلع کولار کے ڈی ڈی پی آئی شری ریونسدپا اور بی ای او شریمتی گریجشوری دیوی سے بات کی اورکہا کہ میر معلمہ کے ساتھ نا انصافی کی گئی ہے۔انہوں نے مانگ کی کہ فوری طور پر ان کی معطلی ختم کی جائے اور انہیں واپس اُن کے عہدہ پر بحال کیا جائے۔
پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے آئیٹا کے صدر نے بتایا کہ چنگپا سرکاری اسکول میں تقریبا 400 طلبہ زیر تعلیم ہیں جن میں 161 طلبہ مسلم ہیں جو ہر جمعہ کو نماز کے لئے مسجد جاتے ہیں۔ چونکہ اسکول سے متصل ایک بڑی سڑک ہونے کے سبب بچوں کے ساتھ حادثہ کا خدشہ لگا رہتا تھا اوربعض طلبا جمعہ کے روزاکثر اسکول سے غیر حاضر بھی ہوتےہیں، ان وجوہات کی بنا پر بچوں کو اسکول میں ہی روکنے کے لئے وہاں کی میر معلمہ نے جمعہ کی نمازایک کلاس روم میں ہی پڑھنے کی سہولت فراہم کی تھی۔ رضا مانوی نے بتایا کہ میر معلمہ شریمتی اوما دیوی کے نیک ارادے اور تعلیمی و حفاظتی نقطہء نظر سے کئے گئے ان کے اس اقدام پر انکی ہمت افزائی کرنے کے بجائے ان کو ملازمت سے ہی برطرف کیا گیا ہے، جو بالکل غلط ہے اور اُن کے ساتھ ناانصافی ہے۔ پریس ریلیز میں آئیٹا کرناٹکا نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے میر معلمہ پر کی گئی اس کاروائی کو غلط ٹہراتے ہوئے انکی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک تحریر ی یاداشت بھی چیف منسٹر کرناٹکا، ریاستی وزیر تعلیم حکومت کرناٹکا، چیر مین میناریٹی کمیشن اور ڈی ڈی پی آئی کولار کو ارسال کی گئی ہے۔